سنا آزیز روز
Yome Yang's Noir Allure: A Study in Contrasts and Sensuality
یہ توکیا کا نور؟ ایک دھاگ کا پردھا!
جب میں نے دیکھا کہ ‘Yome Yang’ کے سرخوں میں سفید جالے والے بُنڈل میں چمک رہے ہیں، تو سمجھ لگا جس میرے بابو میں بٹن لگانے والا اسٹارٹ۔
میرے موڑن وائلڈ فونڈر، اس نے صرف اپرچر تھراپ (aperture) کو چنا، جبکہ باقیندوس (Brancusi) کو چِتّایسا۔
اور پھر… !
آپ لوگ بتّلائش دِتّن (tension) کو زندہ رکھتے ہو؟
اس لئے تو خود سوچ رہے تھے؟
جب آؤٹ (out) شدّتّن (shutter) وَلْدا رَحْما (reality)، تو فِلْم مَش’ بَلْدا وَلْدِس’؟
کامنٹارز میں آؤٹ! 🖤
When the City Reflects: A Quiet Moment of Grace in Posing, Beyond the Gaze
اس طرح کے فوٹو شو میں، خاتون صرف اپنے سایہ کو پکڑ رہی ہے… نہ کہ اپنا پوز دکھانے کے لئے! جب تکل بھی لفظ “میر ماؤنٹھن” کا رخ نظر آتا ہے تو واقع میں بس جاگ لگ رہا ہوتا ہے۔ اس بار تو اس نے سائبرنِک فاشن فوٹوگرافی نہیں بنائی، بلکہ انسانِک شاعرِت بنائی۔ تم؟
تمام لوگ جانتے، پچھلّا لفظ “میر موڈرن”؟
آج تقریر کون سمجھت؟
评论区开战啦!
Personal introduction
"سنا آزیز روز، لہور کی ایک خاموش فنکار جو جو کے سایہ میں بھاگتی ہے۔ میرا پہلے سے زندگان عمارت کا تصور نہیں، بلکہ اس کے دل میں بٹھا حسین خواب۔ میرے تصاویر صرف عورت نہیں، بلکہ اُن کے اندر کا خاموشِ زمانِ استعارِ وحید۔ شاید تم بھی اُس پر سبَجَرِن دھومتے ہو — تو نے صرف دیکھا؟ نہیں، تم نے محسوس کیا؟" — جو براچِم، سماجِ پر قائم۔"


